کہ خون دل میں ڈبو لی ہے انگلیاں میں نے

 

کہ خون دل میں ڈبو لی ہے انگلیاں میں نے

اسے خدا نے پیدا کیا تھا مگر آدھا انسان تھا نہ مرد تھا نہ عورت تھی گھر والوں نے اسے گھر سے بےدخل کردیا تھا معاشرے نے اسے دھتکارا تھا اسکا جنسی استحصال کیا تھا معاشرتی زندگی گویا اس پر حرام تھی پھر اس نے آدھی مردانگی کو چھوڑ کر عورت کے لباس میں عورت کے گیٹ اپ میں پناہ لی وہ کام جو معاشرے میں برا سمجھا جاتا ہے نیک نام جسے برا تصور کرکے پیش کرتے تھے اور چھپے بدمعاش رات کی تاریکی میں اپنا فریضہ انجام دیتے تھے اور وہ لوگ جو کھلم کھلا تھے وہ اس جنس کو ہندوستان، پاکستان اریبک کے مدھم یا تیز دھنوں پر نچاتے تھے وہ رات جھوم جھوم کر اور ناچ ناچ کر گزارتے تھے ان کی زندگی کا واحد مقصد اپنا پیٹ پالنا تھا چاہے وہ جس طریقے سے بھی ہو، اعتراض کرنے والے اس پر شکوہ کناں تھے کہ یہ جنس معاشرے میں بےحیائی پھیلانے کے مؤجب ہیں یہ جنس نئی نسل کو بےراہ روی کا شکار بناتے ہیں یہ نسل دوسروں کو بہکانے کا کام کرتے ہیں،

اعتراض کرنے والے ٹھیک ہی کہتے ہیں یہ نوجوان نسل کو بگاڑ رہے ہیں مگر وہ نوجوان نسل ہے کس کا؟

یہ معاشرے میں بےحیائی کا مؤجب ہیں ٹھیک ہے مگر اسے اس راہ پر گامزن کس نے کیا؟

یہ نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار بناتے ہیں مگر انکو کس نے اس راہ پر لگایا ہے؟

اعتراض کرنے والوں سے اگر اس بابت بات کی جائے تو شاید اس جنس کے وہ سارے دکھ ختم ہوجائینگے جس سے وہ ہر رات گزرتے ہیں،


یہ جنس ہرگز بے حیائی نہیں پھیلائینگے، یہ جنس ہرگز نوجوانوں کو بےراہ روی کا شکار نہیں بنائینگے، یہ جنس ہرگز دوسروں کو نہیں بہکائیں گے اگر ہم اس جنس کو  معزز شہری سمجھ کر سینے سے لگائیں گے اگر ہم اس جنس کو وہی مقام دے جو ہر کسی کا بنیادی حق ہے اگر ہم اس جنس کو اسکی اس خامی کی وجہ سے کمتر نہ سمجھیں،


میں اسکے قاتلوں سے یہ بات پوچھتا ہوں کہ تم خدا ہو کیا جو ان معصوموں کو اپنی انا کی خاطر موت کے گھاٹ اتارتے ہو؟ 


آخر تمھیں کس نے یہ حق دیا ہے کہ جو تمہارے اشاروں پر نہ چلے تو انھیں قتل کردو؟


ایک بات یاد رکھو " ان معصوموں پر رحم کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمھیں بھی اس آزمائش سے دوچار کرسکتا ہے"


Comments

Popular posts from this blog

یہ واقعہ مصر میں پیش آیا